جمعیۃعلماء ہند کی تین اہم خصوصیات

جمعیۃعلماء ہند کی تین اہم خصوصیات

کے بعد علماء کی استعماری طاقتوں کے خلاف فوجی قوت کے ساتھ دانشورانہ سوچ اور فکری جد وجہد نے چند سالوں میں برطانیہ جیسی مغرور قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
برطانیہ نے 1857ء کے بعد ہندستان کے عوام کو اپنا غلام تصور کرلیا تھا،وہ یہاں کے شہری کو گفتگو کے قابل تک نہیں سمجھتے تھے ۔ لیکن وطن کے سرفروش گروہ نے طاقت کے ساتھ دماغ کا استعمال کرکے محض چالیس سال میں کایا پلٹ دیا ۔ نتیجتاً مغرور انگریز ہندستان کے شہری کو اس لائق سمجھنے لگے کہ وہ اپنی انجمنیں بنا کران سے بات کرسکیں۔لیکن یہ ہرگز کافی نہ تھا کہ ہم محض درخواستی پوزیشن پا کر قناعت کرلیں ،1885ء میں کانگریس پارٹی بھی ایک درخواستی گروپ کی شکل میں ہی وجود میں آئی تھی۔ لیکن1919ء میں جمعیۃعلماء ہند کے قیام اور اس سے قبل اس کے فکری رہنما حضرت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کی تحریکات نے انگریزوں کو یہ محسوس کرنے پر مجبور کردیا کہ ہندستان کے شہری ، ان سے اپنابنیادی حق اور اپنا وطن مانگ رہے ہیں ، نہ کہ ایک درخواستی طبقہ بنے رہنے پر راضی ہیں ۔

تاریخ گواہ ہے کہ اپنے قیام کے اولین وقت میں جمعیۃعلماء ہند نے برملا مکمل آزادی کا مطالبہ کیا، یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا جب کوئی جماعت اس مطالبے کاحوصلہ جٹا نہیں پارہی تھی۔ جمعیۃعلماء ہند چند سالوں میں ہی استعماری طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی پالیسیوں کا محاسبہ کرنے لگی ۔ الحمدللہ اہل وطن کے ساتھ اشتراک سے اس جدوجہد نے وہ منزل بھی حاصل کرلی جب ہم نے1942ء میں ’کوئٹ انڈیا ‘ کے نعرے کے ذریعہ ہمالیہ کی طرح طاقت ور ایک ناقابل تسخیر حکومت کو وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا۔اس مدت میں یہ بات قابل دید تھی کہ ملک کے دولت منداور دانشوروں کا گروہ انگریزوں کے سامنے جھکار ہا اور بوریہ نشین علماء و صلحاء اپنی خانقاہوں اور مدرسوں سے باہر نکل کر ایسی حکومت سے لوہا لینے پر مجبورہوئے جن کے اقتدار میں سورج غروب نہیں ہو تا تھا ۔

جعیۃ علماء ہند کا سو سالہ سفر
جمعیۃعلماء ہند کا سوسالہ سفر مکمل ہو چکاہے ، اس طویل عہد میں اس جماعت نے کئی بڑی خدمات انجام دی ہیں ، تاہم اس کی تین ایسی خصوصیات ہیں جو اس کی شناخت بن چکی ہیں ۔ یہ خصوصیات اس جماعت کے عظیم ماضی،تابندہ حال اور روشن مستقبل کی گواہ ہیں ۔ان تینوں تحریکوں کی اساس دین اسلام اور رسول عربی صلی اللہ علیہ کی حیات طیبہ ہیں ۔ ان میں سب سے پہلی تحریک (۱) متحدہ قومیت، دوسری (۲) فرقہ واریت کے خلاف جد وجہد اور تیسری (۳) دہشت گردی مخالف جد وجہد ہیں ۔یہ تینوں تحریکات تین الگ الگ عہدوں میں چلائی گئیں اور تینوں نے اپنے اپنے زمانے میں ہوا کے رخ کے خلاف چل کر باطل فکروں کی بنیاد ہلادی ۔اگر کوئی شخص ایک جملہ میں جمعیۃعلماء ہند کی خصوصیت پوچھتا ہے تو اس کے لیے یہ کہنا کافی ہوگا کہ اس نے’’ دو قومی نظریہ، فرقہ پرستی اور دہشت گردی کے خلاف‘‘ انقلابی تحریک چلائی ہے ۔

(۱)متحدہ قومیت
انگریزی اقتدار کے زوال کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کی تحریک شروع ہوگئی تھی ۔اسی زمانہ میں صدر بازار دہلی کے پل بنگش سے متصل ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ فی زماننا قومیں اوطان سے بنتی ہیں، اس وطن کے رہنے والے کی حیثیت سے سب ایک ہی قوم شمار ہوتے ہیں‘‘۔ اس طرح سے انھوں نے برصغیر میں ہندو اور مسلمان کو وطنی بنیاد پر مشترک قوم قرار دیتے ہوئے ان لوگوں کی مخالفت کی جو مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کا نعرہ بلند کررہے تھے۔
ظاہر سی بات ہے کہ مذہب کو اپنے سیاسی کاروبار کے لیے استعمال کرنے والی طاقتیں اسے کیسے برداشت کر سکتی تھیں۔ وہ اس اعلان کے بعد بلبلا اٹھے اور علمائے حق کے خلاف ناگوار طور طریقہ اختیا ر کرنا شروع کردیا ۔دریں اثناء حضرت مدنی رحمہ اللہ نے اپنے موقف کی نہ صرف وضاحت کی بلکہ اپنے موقف کی بنیاد کو مختلف حوالوں سے ثابت کیا ۔انھوں نے جمعیۃعلماء ہند کے اجلاس عام میں فرمایا کہ ’’ ہم باشندگان ہندستان بحیثیت قوم ہونے کے ایک اشتراک رکھتے ہیں ،جو کہ ایک اختلاف مذاہب او راختلاف تہذیب کے ساتھ ہر حال میں باقی رہتا ہے۔جس طرح ہماری صورتوں کے اختلاف ، ذاتوں او رصفتوں کے تبائن ، رنگوں اور قامتوں کے افتراقات سے ہماری مشترک انسانیت میں فرق نہیں آتا ، اسی طرح ہماری مذہبی او رتہذیبی اختلافات ، ہمارے وطنی اشتراک میں خلل انداز نہیں ہیں ، ہم وطنی حیثیت سے ہندستانی ہیں اور وطنی منافع کے حصول اور مضرات کے ازالہ کی فکر اور اس کے جد و جہد مسلمانوں کا بھی اسی طرح فریضہ ہے جس دیگر غیر مسلم قوموں کا ، اس لیے سب کو مل کر پوری کوشش کرنی ازبس ضروری ہے ۔ یہی معنی اس جگہ ’متحدہ قومیت‘ کے ہیں ، اس کے دوسرے معنی جو لوگ سمجھ رہے ہیں وہ ناجائز اور غلط ہے ۔ اس کے خلاف یورپین لوگ متحدہ قومیت کے جو معنی مرادلیتے ہیں ان سے جمعیۃعلماء بیزا ر اور تبرا کرتی ہے‘‘(تلخیص خطبہ صدارت اجلاس عام جمعیۃعلماء ہند جون پور ۷،۸،۹، جون ۱۹۴۰ء)
متحدہ قومیت سے متعلق اپنی ایک کتاب میں حضرت مدنی رحمہ اللہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری متحدہ قومیت سے اس جگہ وہی قومیت متحدہ ہے جس کی بنیاد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ میں ڈالی تھی۔یعنی ہندستان کے باشندے خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، بحیثیت ہندستانی ایک قوم ہو جائیں اور اس پر ایسی قوم ہو جائیں اور اس پر ایسی قوم سے جو کہ وطنی اور مشترک مفاد سے محروم کرتے ہوئے سب کو فنا کررہی ہے ، جنگ کرکے اپنے حقوق حاصل کریں، اور ظالم اوربے رحم قوت کو نکال کر غلامی کی زنجیروں کو توڑ پھوڑ ڈالیں ، ایک دوسرے سے کسی مذہبی امر میں تعرض نہ کرے بلکہ تمام ہندستان کی بسنے والی قومیں اپنے مذہبی اعتقادات ، اخلاق ، اعمال میں آزاد رہیں، اپنے مذہبی رسم وراج ، مذہبی اعمال واخلاق آزادی کے ساتھ عمل میں لائیں اور جہاں تک ان کا مذہب اجازت دیتاہو، امن وامان قائم رکھتے ہوئے اپنی اپنی نشرواشاعت بھی کرتے رہیں، اپنے اپنے پرسنل لاء اور کلچرکو محفوظ رکھیں ، نہ کوئی اقلیت دوسری اقلیتوں اور اکثریت سے ان امور میں دست وگریباں ہو اور نہ اکثریت اس کی جد وجہد کرے کہ وہ اقلیتوں کو اپنے اندر ہضم کرلے،یہی وہ چیز ہے جس کا اعلان کانگریس ہمیشہ کرتی رہی ہے‘‘ ( متحدہ قومیت اور اسلام ، بعنوان متحدہ قومیت کے مجوزہ معنی،ص۔۳۷۔۳۸)
ملک بھر کے نامور علماء کرام نے جمعیۃعلماء ہند کے اس دینی وسیاسی موقف کی زبردست حمایت کی اور اسے قرانی استدلال سے درست قرار دیا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ دنیا میں کوئی بھی قوم مذہب کی بنیاد پر نہیں بنتی ہے ۔قرآن مجید نے ان تمام پیغمبروں کو جن قوموں کی طرف بھیجا گیا، ان کو ان کا ہم قوم اور ہم زبان بتایا ہے : ’’قوم موسی ، قوم لوط ، قوم نوح‘‘ جیسے بے شمار کلمات ،کلام الہی میں مل جائیں گے ، جہاں شرک و کفر وضلالت کے بعد انبیا ء اور ان کے ہم وطنوں کو ایک ہی قوم کہا گیا ۔خود خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا :اللہم اہد قومی فانہم لا یعلمون‘‘اے اللہ میری قوم کو ہدایت فرما ، یہ لوگ ناسمجھ ہیں ، کہہ کر اس وطنی اشتراک کو ظاہر کیا ہے ۔اس اصطلاح پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ کفار عرب کو ان کے کفرنے عربی ہونے سے خارج نہیں کیا اور نہ مسلمانان افریقہ کو ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے افریقی ہونے سے خارج کیا گیا ۔
خدا حضرت مدنی رحمہ اللہ اور جمعیۃعلماء ہند کے اکابر کی خدمات قبول فرمائے کہ انتہائی فتنہ پروری اور طوفان بلاخیزی کے دورمیں انھوں نے اسلام کی عالمگیریت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی عزت نفس کا نذرانہ پیش کیا اور ذلت و رسوائی برداشت کرکے اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ ادا کیا۔ اگر یہ اکابر متحدہ قومیت کے اس نظریہ کو پیش نہیں کرتے اور خاموش رہ کر مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے وطن کی حمایت کرتے تو دنیا اسلام کو خود میں سمٹنے والا مذہب کہتی اور مسلمانوں کو علیحدہ رہنے والی قوم سے پکارتی ۔لیکن یہ اس جماعت کی قربانی ہے کہ اس نے دین حق کی عالمگیری شناخت کی ہر ممکن حفاظت کی۔
جمعیۃعلماء آج بھی یہی کہتی ہے کہ ایمان وعقیدہ اور بنیادی اعمال کے تناظر میں امت مسلمہ کے پاس اتحاد ویک جہتی کی ایک آفاقی بنیاد ہے،لیکن اس کے دائرے میں جغرافیائی حدود پرمبنی ملک کے باشندوں کو نہیں لایا جاسکتا ہے ، اس کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ اور زبردستی ، عہد جدید میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ قدر ، مذہب و عقیدہ کی آزادی کے منافی ہے ، اپنے مخصوص مذہب و تہذیب کے نام پر اپنے لیے علیحدہ جغرافیائی خطے کا مطالبہ مشترکہ انسانی آبادی میں پیدا شدہ مسائل کا پائیدار حل نہیں ہے ، اس طرح کے مسائل تو ایک مذہب اور تہذیب والی آبادی میں بھی پائے جاتے او رپیدا ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ عام مشاہد ہ ہے ۔آزادی سے قبل مشترکہ قومیت کے سلسلے میں جو سوال پیدا ہو ا تھا ، وہ آج کے بدلتے سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور مذہبی وتہذیبی حالات میں نئی نئی شکلو ں میں سامنے آرہا ہے ، ہمارے اکابر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، مولانا ابوالکلام آزاد، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ وغیرہم نے ایک ملک کی مختلف مذاہب وروایات والی آبادی کے درمیان اتحاد ویک جہتی کے لیے جو مشترکہ قومیت کا تصور پیش کیا تھا ، اس پر آج کے فرقہ وارانہ ماحول میں غور وفکر کرکے باہمی نفرت کا خاتمہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟آج کی تاریخ میں یہ سوال اور بھی زیادہ اہم اور قابل توجہ ہو گیا ہے ، کیوں کہ گزشتہ کچھ دنوں سے تہذیبوں کے درمیان تصادم کی بات نمایاں ہو کر سامنے آرہی ہے۔

حالاں کہ ضرورت انسانی اتحاد کی بنیاد ، آزادی کے تحفظ اور مختلف تہذیبوں کو انگیز کرنے پر ہے او ریہ وطنی جذبہ و تصور کے فروغ سے ہی ممکن ہے ، اس کے سوا اگر دیگر قسم کے عناصر :نسل ، زبان، تہذیب و روایات، وغیرہ قومیت کی بنیاد میں شامل کیا جائے ، جیسا کہ ساورکر اور گولولکر وغیرہ نے کیا ہے تو اتحاد ویک جہتی کی راہ میں مختلف قسم کی رکاوٹیں پیدا ہو ں گی ۔نئے حالات میں جس رنگ اور شدت کے ساتھ مشترکہ قومیت کو لے کر جو مزید سوالات ہمارے سامنے ہیں ، وہ ہمارے بزرگوں حضرت شیخ الاسلام ؒ وغیرہ کے سامنے نہیں تھے ، یہ سوالات متحدہ قومیت پر بحث کے بعد سامنے آئے ہیں ۔ خصوصا ۱۹۶۶ء سے گرو گولولکر کی کتاب Bunch of Thoughtsکی اشاعت کے بعد حالات میں تیزی سے تبدیلی کا آغاز ہو ا، تو اس وقت حضرت مدنی ؒ اور مولانا آزادؒ وغیرہم ہمارے درمیان نہیں تھے ، تاہم ان کے نظریہ وعمل میں ہمارے لیے نمونہ موجود ہے، اس سے رہ نمائی اور روشنی لے کر ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ۔

(۲) فرقہ واریت کے خلاف جد وجہد
آزادی سے پہلے غیر ملکی طاقتوں کی پرورش کے باوجود بھارت کے فرقہ پرست ایک طویل عرصے تک اپنی جڑیں ہندستانی معاشرے میں پیوست کرنے میں بری طرح ناکام رہے ، لیکن آزادی کے فورا بعد ہی ان فرقہ پرست طاقتوں نے بعض ارباب اقتدار کے چشم و ابرو کا اشارہ پا کر جب اپنے کچھ بال و پر نکالنا شروع کیے تو ملک کے سیکولر لیڈروں اور سیاسی و جمہوری تنظیموں نے ان کا مقابلہ کرکے ان کو بے حوصلہ بنادیا ، پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ان طاقتوں نے مہاتما گاندھی کو تشدد کا نشانہ بنا کر سیکولرزم کو چیلنج پیش کیا ، مگر یہ ہندستان کی خوش قسمتی تھی کہ اسکو نہرو اور آزاد کی قیادت میسر تھی ، اس کے ساتھ ملک میں کچھ ایسی تنظیمیں بھی موجود تھیں ، جنھوں نے بروقت فرقہ پرستی کا تعاقب کرکے اس کو پسپائی پر مجبور کردیا ، یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ان جماعتو ں میں سرفہرست جمعیۃعلماء ہند تھی ۔

28؍دسمبر 1948ء کو جمعیۃعلماء ہند کی تحریک پر امام الہند مولانا آزادؒ نے لکھنو میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کرکے صبر و استقامت کا درس دیکر جہاں ایک طرف مسلمانوں کے اکھڑے قدم جمائے تھے ، وہیں دوسری طرف یہ کانفرنس فرقہ پرستی کے خلاف ایک کھلا چیلنج تھی ۔ جمعیۃعلماء ہند اور اس کے حضرات اکابر رحمہم اللہ نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ وہ فرقہ پرستی کے لیے قدم قدم پر سد سکندری بن کر کھڑے ہوتے رہے ، انھوں نے مسلمانوں کو صبر و استقامت کا بھی درس دیا اور ان کے حوصلے بھی بلند کیے ۔
1961ء میں جبل پور کے بھیانک فساد سے ملک میں مسلم اقلیت کے خلاف ظلم و زیادتی کا کریہہ سفر شروع ہوا ، تو جمعیۃعلماء ہند اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ فرقہ پرستی کے خلاف سینہ سپر ہوگئی۔ ایک طرف جہاں اس طوفان بلاخیز کو روکنے کی کوشش کی وہیں دوسری طرف ارباب اقتدار سے مل کر فسادیوں کے ہاتھوں میں زندان کے زنجیر پہنوائے۔۷۰کی دہائی ملک میں متعدد فسادات کے لیے جانی جاتی ہے ۔ جمعیۃعلماء ہند نے ۱۹۶۱ء میں فرقہ پرستی کے موضو ع پر مسلم کنونشن منعقد کی اور پھر مولانا سید اسعد مدنی ؒ نے1964ء میں قومی جمہوری کنونشن بلا کر ہندو اور مسلم طاقتوں کو ایک اسٹیج پر جمع کیا ،اس کنونشن نے واضح طور سے سیکولرزم اور فرقہ پرستی کے درمیان خط امتیاز کھینچنے میں کامیابی حاصل کرلی۔مولانا اسعد مدنی ؒ کا پورا دورفرقہ پرستی کے خلاف لڑے جانے والے عہد کے طور پر یا د کیا جائے گا ۔انھوں نے 1979ء ، 1983اور 2002ء میں ملک وملت بچاؤ تحریک چلائی ۔1991ء کے انتہائی فرقہ وارانہ ماحول میں فرقہ واریت مخالف کانفرنس منعقد بلاتفریق مذہب و ملت ملک کے سیاسی و سماجی رہ نماؤں کو جمع کیا اور فرقہ پرستی کے خلاف متحدہ جنگ لڑنے کا اعلان کیا ۔۱۹۶۷ء میں ہندو مہاسبھا کے ذریعہ گؤ کشی کا معاملہ اٹھانے کی وجہ سے دوسال بعد1969ء میں احمد آباد میں نسل کش فساد ہوا، 1971ء میں مسلم پرسنل لاء کو نشانہ بناگیا ،1975ء میں ایمرجنسی کے دوران مسلمانوں کے خلاف نسبندی اور خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر تیر و نشتر آزمائے گئے ۔یکم فروری 86ء کو بابری مسجد کا ناجائز طور پر تالاکھولا گیا ، عام پوجا پاٹ کی اجازت دے دی گئی اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے جگہ جگہ فسادا ت شروع ہوگئے، رتھ یاترائیں نکالی گئیں، رام للا جلو س نکالا گیا ۔1992ء میں بابری مسجد کی شہادت ہوئی ، 2002ء میں گجرات کا بھیانک فساد ہوا ۔ فسادات کی بات کریں تو 1979ء کا جمشید پور فساد، مرادآباد فساد (1980ء )، میرٹھ فساد (1980ء) نیلی آسام فساد (1983ء ) بھیونڈی فساد (1984ء )، میرٹھ ہاشم پورہ قتل عام (1987ء ) بھاگلپور فساد (1989ء ) حیدرآباد (1990ء ) ممبئی فساد (1993ء ) اور گجرات قتل عام (2002ء ) ، آسام فساد ( 2012 ) مظفر نگر فساد (2013ء ) جیسے کئی بھیانک فسادات ہوئے، تاریخ گواہ ہے کہ مولانا اسعد مدنیؒ نے اپنے عہدصدارت میں بے خوف فساد زدہ علاقوں میں جا کر شہیدوں کی لاشوں کو کندھا دیا، متاثرین کی داد رسی کی ، ان کی آنکھوں کے آنسو پونچھے ، انھیں دوبارہ بسایا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ نیلی فساد میں جب پورا شہر سناٹے میں تھا ۔اس خوفناک فساد سے خاموش شہر میں اگر کوئی اکیلا کھڑا تھا ، تو وہ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نوراللہ مرقدہ تھے۔جنھوں نے پولس انتظامیہ کی رکاوٹوں کا مسخرا اڑاتے ہوئے ان سے کہا کہ’’ آپ کو ایک اسعد کی جان کی اتنی پروا ہے اور یہاں ہزاروں اسعد کی جانیں جاچکی ہیں ‘‘۔
اس درمیان ایک بہت ہی زیادہ پوچھا جانا والا سوال یہ قائم ہوتاہے کہ کیا ایسے اندو ہ ناک حالات کے باوجود یہ کہاجاسکتا ہے کہ سیکولرزم کا تصور کامیاب ہوا ۔یہ سوال گرچہ بہت زیادہ تلخ ہے ، مگر اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ تقسیم وطن کے وقت جب فرقہ وارانہ جذبات کا دیو رقص کررہا تھا ، ایسے موقع پر سیکولرزم کو دستور اساسی کی بنیاد قراردینا ایک کرامت تھی ، جہاں تک سیکولرزم کے تحفظ سے متعلق جمعیۃعلماء ہند کے مساعی کا تعلق ہے تو اس کی درخشاں پیشانی داغدار نہیں ہوسکتی بلکہ حالات کی نامساعدت اس کو اور زیادہ آبدار بنادیتی ہے۔یہ جمعیۃعلماء ہند کے اکابر ہی کی کرامت تھی مملکت اسلامیہ کے مقابلے مملکت ہندوسیہ بنانے والوں کی تحریک ناکام رہی بلکہ ۵۲ کے الیکشن میں ۹۵فی صد ملک کے عوام نے غیر فرقہ پرست جماعتوں کو ووٹ دے کر یہ ثابت کردیاتھا کہ ملک کے باشندے اپنا مذہب کچھ بھی رکھتے ہوں وہ فرقہ پرستی کے حامی نہیں ہیں۔ اس لیے اس سوال کے بجائے کہ سیکولرزم کامیاب ہے یا نہیں، اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اب حالات ایسے کیسے ہوگئے کہ ملک کے عوام فرقہ پرستوں کو اپنا اقتدار سونپ رہے ہیں اور ان کو اس ملک اور اس کی تہذیب کا محافظ سمجھ رہے ہیں ۔
اس درمیان چند عناصر جمعیۃعلماء ہند او راس کے اکابر کو سیکولرزم کے نام پر کانگریس کا غلام کہنے سے نہیں چوکتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں ۔وہ نہیں جانتے کہ آزادی وطن سے قبل جمعیۃعلماء ہند نے کانگریس کے قدآوررہ نما موتی لال نہرو کی’ نہرو رپورٹ‘ کو اپنی ٹھوکروں میں ڈال دیا تھا ۔اس جماعت نے کانگریس کے ذریعہ تقسیم وطن کی تجویز کو خارج کردیا تھا اور آزادی کے بعد اس جماعت کے رہ نماؤں میں پارلیامنٹ کے اندر جب بھی ملی مسائل پر بات ہوئی ، کانگریس کے اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صدائے حق بلند کی۔19؍مارچ1961ء کو مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے جیل پور فساد پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا ’’ امن و امان میں ناکام کانگریسی وزارتوں کو اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے ، اگروہ استعفے نہ دیں تو وزارت داخلہ ان کو نااہل قرار دے کر کرسی سے ہٹائے ‘‘۔ تقریبا اسی طرح حضرت مولانا اسعد مدنی نے اپنے18؍سالہ پارلیمانی مدت میں ہمیشہ حق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ

کیا ۔

(۳)دہشت گردی کے خلاف جد وجہد
اسلام کے پیغام امن کی اشاعت اور دہشت گردی کے خلاف طویل جد وجہدجمعیۃعلماء ہندکی ایک خاصیت بن گئی ہے، اس جد وجہد کی قیادت جمعیۃعلماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کی ہے۔2001 میں امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ عمل کے بعد مسلمان اور اسلام کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر پیش کیا جانے لگا ۔اس درمیان بھارت میں بھی ایک تحریک چلی کہ قرآن مجید سے وہ24؍آیا ت نکال دی جائیں جن میں بزعم مخالفین غیر مسلم کے قتل کا حکم دیا گیا ہے ۔اسلام کو بدنام کرنے کی اس عالمی تحریک کا مقابلہ کرنا بہت ضروری تھا ورنہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے ارد گرد عرصہ حیات تنگ ہو رہا تھا ۔ ہندستان میں اس نیک کام کا بیڑا جمعیۃعلماء ہند نے اٹھا یا ۔ حالاں کہ جمعیۃعلماء ہند شروع سے ہی دہشت گردی کے خلاف تحریک چلارہی تھی ، لیکن اس کو باضابطہ موثر بنانے کے لیے 2007ء میں پارلیامنٹ انیکسی میں ’’ علماء کانفرنس ‘‘ منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام و مفتیان عظام کے علاوہ ارباب اقتدار کو مدعوکیا گیااور دہشت گردی کی سخت مذمت کی گئی اور اسے اسلام سے جوڑنے والوں کو خود دہشت گردوں کو ہم نوا کہا گیا ۔ اس کے بعدمولانا محمود مدنی صاحب نے سال2008ء میں دیوبند سے فتوی طلب کرکے ملک کے گوشے گوشے میں دو سو سے زائد بڑی کانفرنسیں منعقد کیں جہاں یہ عہد لیا گیا کہ مسلمان دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن جد وجہد کریں گے ، سال2013ء میں دیوبند اور دہلی میں امن عالم کانفرنس منعقد ہوئی جہاں سارک ممالک کے علماء ایک ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے اور اسلام کے پیغام امن کو عام کرنے کا عہد کیا ۔جمعیۃعلماء ہند نے اپنے اجلاس ہائے عام 2015ء ، 2016ء میں اور امن و ایکتا سمیلن ۲۰۱۷ء میں لاکھوں کے مجمع میں اسلام کے پیام امن کو عام کرنے کا عہد لیا اور صاف کیا کہ داعش ہو یا چاہے اس جیسی کوئی بھی تنظیم ، وہ اسلام کی دشمن ہے اور مسلمان ان سے نفرت و بیزاری کا اظہارکرتے ہیں ۔ ۲۰۱۷ء میں ملک ایک ہزار شہروں میں ایک ساتھ امن مارچ اور 2015ء میں داعش کے خلاف ایک ساتھ71 شہروں میں ہوئے مظاہرے بہت ہی نمایاں طور پر دہشت گردی کے اعلان جنگ کی طرح تھے ۔جمعیۃعلما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کہتے ہیں کہ تحریکوں کو کامیاب اور ناکام ہونے کے ترازو میں نہ تولا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ دنیا کا وہ طبقہ جو ہمارا مخالف نہیں ہے مگر پروپیگنڈہ کی وجہ سے ہم سے متنفر ہو رہا تھا ، ہم نے ان کو کیا پیغام دیا ۔ ظاہر ہے کہ وہ ان کے ذہن میں جو غلط قائم تصور ہورہا تھا ، ہم نے اسے صاف کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔

جمعیۃنے نہ صرف دہشت گردی کی سخت مذمت کرتی ہے بلکہ وہ لوگ جو دہشت گردی کے شکا ر ہوئے یا اس کے نام پر غلط طریقے سے پھنسائے گئے ، ان کے لیے مقدمہ بھی لڑتی ہے ، حال میں آسام فساد کے بعد غلط طریقے سے جیل میں بند افراد کی رہائی عمل میں آئی ۔ یہ مولانا محمود مدنی صاحب کی طویل جد وجہد کی و جہ سے ممکن ہوا، اسی طرح گجرات فساد کے مجرموں کو عمر قید کی سزا ہوئی ،نیز اورنگ آباد اسلحہ کیس میں فیروز دیشمکھ وغیرہ کے مقدمے میں بڑی کامیابی ملی ہے، ایک تفصیل کے مطابق ملک بھر میں جمعیۃایک سو پچاس سے زائد مقدمات لڑرہی ہے ۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *