خدمات پر اجمالی نظر

خدمات پر اجمالی نظر

 

ایک ایسی تنظیم جس کے پاس نہ “زر سیال” ہےنہ مستقل آمدنی! اس کے پاس محض توکل علی  اللہ کا سرمایہ، دینی بھائیوں کی محبتوں کی پونجی،  علمائے امت کی توجہات کا اثاثہ اور ٹوٹی چٹائیوں پر بیٹھنے والوں کی الفتوں ایسی تنظیم بغیر مادی وسائل کے کیا  کرسکتی ہے اس کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود جمعیت نے مختلف میدانوں اور محاذ پر قائدانہ رول ادا کیا اور امت کی ضرورت پر اس کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے انتہائی مختصر الفاظ  میں جمعیت کے خدمات کو درجہ ذیل عناوین کے تحت سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں

عقیدہ کا  تحفظ

امت مسلمہ کے لئے سب سے قیمتی اور بیش بہا دولت اس کا ایمان و عقیدہ ہے جس پر تمام امور کا مدار ہے اگر ایمان وعقائد سلامت نہ رہے تو اسلام کی نظر میں اس کا متاع حیات ہی گم ہو گیا

انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں اہل ایمان کی ایمان پر غارتگری کرنے کے لئے کئ ایک تنظیم اور جماعت سرگرم ہے۔ اور ان میں قادیانی جماعت سرفہرست ہے جمعیت نے اول روز سے علماء و مشائخ ،ائمہ مساجد، مدرسین و واعظین  کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے۔ قادیانی لوگ ملک کی ایک اہم حکومتی تنظیم، مسلم آیوگ میں داخل ہوچکے تھے، لیکن مولانا شفیق الرحمن صاحب قاسمی اور حضرت مولانا عبدالستار صاحب مدنی  نے جمعیت کی نمائندگی کرتے ہوئے انتہائی جرأت کے ساتھ نکال باہرکرایا

ملک کے نائب صدر کو قادیانیوں نے اپنے “اسلام کے تعارف” نامی پروگرام میں شرکت کی دعوت دے کر گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن جمعیت نے بروقت اقدام کیا، اور دیگر مسلم تنظیموں کے ساتھ مل کر نائب صدر کے ذہن کو صاف کیا۔ شکر ہے انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھا

جمعیت نے اس موضوع  پر کتابیں ممکنہ حد تک  مسلمانوں تک پہنچائیں۔ جمعیت کی ذمہ داروں نے مختلف مساجد میں کئ ایک مواقع پر، قادیانیت کے فتنہ سے لوگوں کو روشناس کرایا

بہت جلد جمعیت ملکی پیمانے پر اس موضوع پر کانفرنس  منعقد کرنے جارہی ہے،  جس میں علماء، ائمہ مساجد، کی اساطین امت، علماے کرام کے ذریعے  تربیت کا فریضہ انجام دیا جائے گا تاکہ وہ عملی طور پر اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے تیار رہیں

۲: انسانی خدمات

ہر طرح کی آفات سماوی ، ارضی اور غیرمتوقع حالات اور مشکلات کے وقت جمعیت وطن عزیز کے بھائیوں کے اشک سوئی کے لیے موجود رہی ہے۔ جمعیت نے اس معاملے میں گروہی، مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کربلکہ  دین و مذہب کی تفریق کے بغیر انسانیت کی بنا پر انسانوں کی خدمت کی ہے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق “الخلق عیال اللہ فی الارض” زمین میں ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اللہ کے اس کنبہ میں حادثات وآفات کے وقت کسی طرح کی کوئی تمیز نہیں برتی گئ

نیپال کی تاریخ میں آتشزدگی کا  سب سے بڑا واقعہ اوڑہی گاؤں میں رونما ہوا۔ جس میں نوسو  گھر جل کر خاکستر ہوگئے سیکڑوں افراد بے خانماں برباد ہوگئے ۔گنتی کے چند مسلم گھرانوں کے علاوہ ۹۴ فیصد مشتمل آبادی غیر مسلموں کی تھی  جمعیت نے بلا لحاظ امت و مذھب سبھی  متاثرین کو راحت پہنچایئ

 

نقد کی شکل میں ،غلہ جات کی صورت میں، کپڑوں کی وافر مقدار مہیا کر کے- تقریبا سوا ملین روپے کے برابر نقد غلہ اور کپڑے تقسیم کئے گئے

اہل رمول نے کافی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اہل بلکوا نے بھی جمعیت کے پلیٹ فارم سے تعاون کیا ۔روتہٹ سے حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب کی قیادت میں ریلیف کا قافلہ آیا

 

کوسی باندھ ٹوٹنے کا منظر بالکل قیامت خیز تھا۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر بے آسرا، بے گھر نفسا نفسی کا عالم!

جمعیت نے ایک بار نہیں تین بار ریلیف پہنچائیں سب کے ساتھ ہوتا ہے پہنچائی ۔صدر جمعیت نے بھی اپنے قافلے ساتھ روتھٹ سے امداد بہم پہنچائی

کوسی سیلاب متاثرین کے سلسلے میں سوفیصد رواداری کا مظاہرہ کیا گیا، اور بلا لحاظ دین و ملت ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کی گئی

ابھی حال میں  ضلع روتہٹ کے برتا گاؤں میں آتشزدگی کا ہولناک واقعہ پیش آیا ارباب جمعیت بالخصوص مولانا رحمت اللہ مدنی، مولانا سیف اللہ، مولانا جواد، مولانا قاسم، مولانا عزرائیل، مولانا خیر الدین مظاہری، مولانا محمد شمیم قاسمی، مولانا ایوب عالم قاسمی مدنی سیکریٹری جمعیت قاری حنیف عالم نے بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔

ضلع سرہا سے جناب الحاج ابوالکلام صاحب ریلیف لیکر مولانا محمد عمیس رحمانی اور راقم کے ہمراہ پہنچے

اسی طرح کچھ ماہ قبل ضلع سپتری کے تھلہی گاوں میں دو سو گھر خاکستر ہوگئے۔ ایک بچہ بھی شہید ہوگیا ۔جمعیت نے مقدور بھر کوشش کرکے متاثرین کی راحت رسانی کا فریضہ انجام دیا

فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور فساد زدگان کی مدد: 

 سال گذشتہ عین عید کے دن، ضلع سرہا  کے  سارسر گاؤں میں ایسا واقعہ رونما ہوا جس سے انسانیت شرمسار ہوں گئی وطن  عزیز بدنام  ہوا۔ اور یہاں کی ہم آہنگی اور خیرسگالی کے ماحول پر کاری ضرب لگی۔ اس گاؤں کی مسلم آبادی پر ہزاروں افراد نے اجتماعی طور پر زدوکوب ،لوٹ پاٹ  کا ہنگامہ مچایا۔ کئی گھر  خاک میں ملے ، لاکھوں املاک  تباہ  ہوئیں  گھر کا ایک ایک سامان اٹھاکر لے گئے  اور جو سامان نہیں لے جاسکے  انھیں  توڑ پھوڑ  کر استعمال کے لائق نہیں رہنے دیا گیا

ابتداء میں  انتظامیہ نے غفلت برتی، لیکن پھر  انتظامیہ،پوروا انچل  کے ڈی آئی جی [موجودہ آئی جی] یہاں کے معتدل سماجی کارکنان،  سیاسی جماعتوں کے نمائندہ،علاقائی بااثر افراد کے  تعاون سے فوری طور پر قابو پایا گیا۔جمعیت کے  افراد نے اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا جمعیت  نے ایک بار پھر کمر کسی  اور اہل سارسر  کی ضرورت کی تکمیل کے لیے آگے بڑھی  ہر گھر کو ممکنہ نقدی، غلہ کپڑا  فراہم کیا گیا، اسی طرح ہر گھر میں کھانا پکانے اور کھانے کے لیے برتن تقسیم کیا۔

اہل رمول نے  جس طرح تعاون کیا اللہ ہی بہتر اجر دے گا اس سلسلے میں برادر مکرم عالیجناب حسن انصاری صاحب کے تعاون اور مشورہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا

روتہٹ سے  حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب، قاری حنیف عالم صاحب، مولانا شفیق الرحمن صاحب ،مولانا عزرائیل صاحب، مولانا طیّب صاحب ریلیف  کی وافر مقدار لے کر پہونچے۔ اور بدست خود ضرورت مندوں تک پہنچایا سارسر  حادثے کے تھوڑے دنوں بعد ضلع روتہٹ کے مٹھیا  گاؤں میں معمولی بات  کے لیے گھروں میں توڑ پھوڑ ہوئی۔ پورا علاقہ فرقہ وارانہ ذھنیت سے مسموم  ہونے لگا۔ ایسے موقع پر جمعیت کے صدر حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب دامت برکاتہم، خازن  انجنئر عبدالجبار صاحب اور دیگر رفقاء نےجس حکمت و تدبر کے ساتھ معاملہ کو حل  کیا وہ قابل تحسین ہے، بساط بھر متاثرین کا تعاون بھی کیا گیا۔

:مسلم حقوق کے لئے جدوجہد

جمعیت کے قیام کے اغراض و مقاصد میں مسلم حقوق کا تحفظ و بازیابی ہے.

اس سے پہلے پیش کردہ رپورٹ میں جمعیت  نے کن کن محاذوں پر، کہاں کہاں کس کس طرح محنت کی ہے ایوان حکومت تک بات  پہنچائی ہے، قارئین سے مخفی نہیں رہی ہوگی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سمبیدھان سبھا اول بغیر کسی نتیجے کے تحلیل ہوگیا، اور ملک کے آدی باسی ،جن جاتی، مدھیسی، دلت، مسلم، سبھوں کے خواب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئے

لیکن پھر سمبیدھان سبھا دوم ہوا، ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم لوگ سمبیدھان سبھا میں موثر  رول ادا نہیں کرسکے کیونکہ ہر فرد کسی نہ کسی پارٹی سے وابستہ تھا سبھوں  کو اپنے اپنے معاملات تھے ایسے میں تمام تنظیموں اور پھر  پوری ملت کو متحد کرنا بےحد دشوار کام تھا ۔ سمبیدھان سبھا کے نتائج انتہائی حیرت کن  اور چونکا دینے والے تھے  ملک شاید کسی خاص رخ پر جا رہا تھا، اس کے باوجود جمعیت نے مسلم حقوق  کے لئے اپنی کوشش جاری رکھی۔

اس موقع  سے معذرت کے ساتھ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ عوام کا ذھن جدو جہد کے سلسلے میں شاید منفی ہوگیا ہے کہ  جب تک بڑے بڑے پروگرام نہ ہوں،سرکوں پہ ہنگامیں  نہ ہوں بند اور ہڑتال نہ ہوں ،تب تک جدوجہد  ہوا ہی نہیں۔افہام و تفہیم ، گفت و شنید،مختلف پلیٹ فارم پر اپنے حقوق کی وکالت، ماحول سازی، متعلقہ افراد تک رسائی وغیرہ کو بھی جدوجہد کا اہم ترین حصہ ماننا چاہیے۔

ماضی میں جس طرح ضرورت پڑنے پر جمعیت  سڑکوں پر آئی ہے۔ بنداور ھڑتال کیا  ہے بلاشبہ یہ ہماری پالیسی  نہیں ہے۔ ہم اس کے خلاف ہیں لیکن حقوق کی تحصیل میں پھر اور کون سا جمہوری طریقہ ہمارے پاس رہ جاتا ہے؟ اس کا جواب ہمارے حکمران دیں گے سمبیدھان سبھا دوم کے  بعد راشٹریہ  مسلم سنگھرش  گٹھ بندھن کو ہم نے زندہ رکھا ہے۔ دیگر تمام مسلم تنظیمیں ہم  زبان ہیں ۔  اگر مفاہمت کے راستے سےحقوق حاصل ہوجاتے ہیں تو بہتر ہے ورنہ گٹھ بندھن  اپنی جمہوری اور قانونی حق پر عمل کرے گا

 

پروگرامس اور وفود: مسلم حقوق، دعوتی کاز اور اصلاحی مہم کے ساتھ سماجی اور سیاسی بیداری کے لئے جمعیت وقفہ وقفہ سے چھوٹے بڑے پروگرام منعقد کرتی رہی ہے۔ گئورکی رائس میل کے پچاس ہزار  کے عظیم الشان مجمع کے جلو میں مورنگ کے دور دراز کے گاؤں سکٹی میں پچاس افراد کی مختصر جماعت کے ساتھ پروگرام کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے

کہیں گٹھ بندھن  کی تحریک کے تحت عوامی  سیلاب کا امنڈ آنا ہو تو کبھی تحفظ سنت کانفرنس میں علماءکی  جماعت کا ہجوم،سرہا کے مہنور گاؤں میں مقامی افراد کا جذبہ ایثار ہو یا  بارا پرسا کے گاؤں گاؤں میں  جمعیت کے وفد کا استقبال!براٹ نگر  شہر میں ضلعی کمیٹی کا انتخابی اجلاس ہو یا   بیر گنج کے بال مندر میں ہزاروں شیدائیوں کا اجتماع ،کاٹھمانڈو کے رپورٹس  کلب  میں مسلم حقوق کے لیے ارباب جمعیت کی للکار ہو یا سڑکوں پر جمعیت کے حامیوں کا مظاہرہ! ہر جگہ محنت، جدوجہد، سعی پیہم ،اور کاوش کا ایک تسلسل نظر آئے گا کہ جمعیت اپنے فرائض سے غافل نہیں ہے

ذمہ داران مختلف اجلاس ، دینی مدارس کے جلسوں،گاؤں دیہات  کے پروگرام میں دعوت پر لبیک کہتے ہوئے صدائے حق بلند کرتے رہے

وقتا فوقتا ہند وبیرون ہند کے مشاہیر علمائے کرام کی آمد پر ان سے استفادہ کے موقع کو غنیمت سمجھا گیا حضرت مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم ،حضرت مولانا مفتی جعفر صاحب خلیفہ حضرت حکیم اختر نوراللہ مرقدہ ،دکتور مصطفی نور الدین ، ماضی قریب  کی آنے والی اہم شخصیات میں سے ہیں۔

ان کے علاوہ مفتی راشد صاحب، مفتی عبداللہ معروفی صاحب استاد دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی انیس الرحمٰن قاسمی ناظم امارت شرعیہ کی تشریف آوری ہوچکی ہے

اسی طرح جمعیت کا وفد  بالخصوص، جمعیت علماے ہند کی دعوت پر  بارہا  دہلی اور دیوبند جا چکا ہے۔

وہاں کی بین الاقوامی کانفرنس میں جمعیت نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے ۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں راقم کے خطاب کو بالخصوص   غیر مسلموں کو نے بے حد پسند کیا تھا

نشرواشاعت

اپنے قیام کے وقت سے ہی جمعیت عربی، نیپالی، انگریزی تاریخوں پر مشتمل، دیدہ زیب خوبصورت کلینڈر کی اشاعت تسلسل سے کررہی ہے جس سے عوام و خواص کی پذیرائی  بھی حاصل ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کے موقع سے اوقات سحر و افطار کی اشاعت،حج  کے موقع سے  رہنمائے حج،دیگر مواقع سےپمفلٹ اور اشتہار کی اشاعت   آپ کے سامنے ہیں۔جمعیت کا نیپالی و اردو  میں تعارفی فولڈر  اس کے علاوہ ہے

جمعیت نے اپنے  ترجمان  الجمعیہ سہ ماہی کی اشاعت کا کام شروع  کیا۔رونمائی  کے موقع سے  حضرت مولانا محمود اسعد مدنی، حضرت مولانا راشد قاسمی ،  حضرت مولانا عبداللہ معروفی استاد دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی انیس الرحمٰن قاسمی بھی موجود تھے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسرے کے بعد تیسرے شمارے کے اجراء و اشاعت کی نوبت نہیں آسکی اللہ اس کے لیے وسائل مہیا فرمائے تاکہ الجمعیہ کو  تسلسل کے ساتھ عوام تک پہنچایا جاسکے اس ضمن میں جمعیت کی ویب سائٹ بھی قابل  ذکر ہے

www.jamiatulamaenepal.com

تنظیمی ڈھانچے میں توسیع:

بیرگنج میں ہونے والے انتخابی اجلاس سے پہلے اور بعد کے ایام میں بھی جمعیت کے تنظیمی کردار اور ڈھانچے کی توسیع کے لئے متعدد دورے کیے گئے یہ دورے چھاپا سے لیکر کاٹھمانڈو اور نیپال گنج تک ہوئے۔ اللہ کا شکر ہے جمعیت کاٹھمانڈو کے باغ بازار دفتر میں محصور تنظیم کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی ضلعی  شاخیں، چھاپا ، مورنگ ، سنسری ، سپتری، سرہا ، مہوتری ، روتہٹ ، بارا ، پرسا ، چیتون ، روپیندیہی ، کپل وستہ، بانکے کاٹھمانڈہو تک وسیع  ہوچکی ہیں۔ نیپال کے علماء کی کثیر تعداد اس سے منسلک ہو چکی ہے اور ہزاروں کی تعداد اس کے ممبر اور خواص میں پائے جاتے ہیں ہے بلاشبہ جمعیت کی تنظیم وتوسیع میں مزید محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے جسے انشاءاللہ غفلت نہیں برتی جائے گی

 

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *